Saturday, September 7, 2013

الله والوں کی حقیقت



میرے ایک دوست تھے سلطان راہی ان کا نام تھا - آپ نے ان کی فلمیں دیکھی ہونگیں - ایک روز مجھے ان کا پیغام ملا کہ آپ آئیں ایک چھوٹی سی محفل ہے - اس میں آپ کی شمولیت ضروری ہے اور آپ اسے پسند کرین گے - میں نے کہا ، بسم الله -

سلطان راہی کو شاید آپ جانتے ہوں یا نہیں اسے قرأت کا بڑا شوق تھا ، اور اس کا اپنا ایک انداز تھا - اس کا اپنا ایک لہجہ تھا - تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا گاؤں کا پینڈو آدمی - ...اس نے دھوتی باندھی ہوئی تھی ، کندھے کے اوپر اس کے کھیس تھا - سادہ سا آدمی کچھ اتنا زیادہ متاثر کن بھی نہیں تھا -

تو انھوں نے کہا ان سے ملیں یہ بھا رفیق ہے - ہم دس ، پندرہ لوگ دیوار کے ساتھ ڈھو لگا کر بیٹھ گئے -
سلطاں راہی نے کہا ، آپ کو اپنی کچھ قرأت سنانا چاہتا ہوں - ہم نے کہا بسم الله - انھوں نے کہا میں سوره مزمل پڑھونگا -

تو سلطان راہی نے اپنے انداز میں اپنے لہجے میں ، اور اپنی آواز میں سورہ مزمل کی تلاوت شروع کی - بہت ہی اعلیٰ درجے کی لوگوں نے بہت پسند کیا -
وہ پڑھتے رہے ہم دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سنتے رہے اور جب ختم ہو گئی تو سب کے دل میں آرزو تھی کہ کاش ایک مرتبہ پھر سے پڑھ سکے مگر انھوں نے بند کر دیا -

پھر انھوں نے بھا رفیق کی طرف دیکھا اور ان سے کہا جی آپ بھی فرمائیں - تو بھا رفیق نے کہا جی میری آرزو بھی سوره مزمل سنانے کی تھی لیکن چونکہ انھوں نے سنا دی -
ہم نے کہا نہیں نہیں آپ بھی ہم کو یہی سنائیں - ہم تو یہ آرزو کر رہے تھے کہ دوبارہ شروع ہوتی -

انھوں نے بیٹھ کر خواتین و حضرات اپنے اس انداز میں کھیس کندھے سے اتار کر گود میں رکھ لیا - اس کے اوپر کہنیاں رکھ کر بیٹھ گئے ، اور سورہ مزمل سنانی شروع کی -
آپ نے بیشمار کیسٹ سنے ہونگے - بیشمار قاریوں کو سنا ہوگا - انھوں نے جو سنایا اس کا اپنا ایک انداز تھا -

جوں جوں وہ سناتے چلے جا رہے تھے ، ہم سارے آدمیوں نے جو بیٹھے تھے ، یہ محسوس کیا اس بیٹھک میں تاریخ کا کوئی اور وقت آ گیا ہے -
یہ وہ وقت نہیں ہے جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں ، اور ہم لوگوں کو ایسا لگا کہ ہم قرون اولیٰ کے مدینے شریف کی زندگی میں ہیں ، اور یہ وہی عہد ہے وہی زمانہ ہے -
اور ہم ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جو اس عہد کی آواز کو ویسے ہی کسی آدمی کے منہ سے سن رہے ہیں -

یہ سب کا تجربہ تھا - عجیب و غریب تجربہ تھا - ہم نے یوں محسوس کیا جیسے اس کمرے میں بیٹھک میں ، عجیب طرح کی روشنی تھی -
ہو سکتا ہے یہ ہمارا خیال ہو - لیکن اس کی کیفیت ایسی تھی کہ اس نے سب کے اوپر سحر کر دیا تھا - پھر وہ ختم ہو گئی - ہم نے زبان سے شکریہ ادا نہیں کیا ، کیونکہ ہم سارے اتنے جذب ہوگئے تھے کہ بولا نہیں جا رہا تھا -
البتہ ہماری نگاہوں میں ، جھکے ہوئے سروں میں ، اور ہماری کیفیت سے یہ صاف واضح ہوتا تھا کہ یہ جو کیفیت تھی ، جو گزری تھی یہ کچھ اور ہے -

تو کوشش کر کے ہمت کر کے میں نے کہا ، راہی صاحب ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں - پہلے آپ نے سوره مزمل سنا کر پھر آپ نے اپنے دوست کو لا کر تعارف کروایا اور قرآن سنوایا -
یہ کیفیت ہمارے اوپر کبھی پہلے طاری نہیں ہوئی تھی -
تو سلطاں راہی نے کہا ، بھا جی ! بات یہ ہے کہ میں سوره مزمل کو جانتا ہوں ، اور بہت اچھی طرح جانتا ہوں - لیکن یہ شخص مزمل والے کو جانتا ہے تو اس لئے فرق پڑا-
تو جب آپ والی کو جانتے ہیں ، اور جاننے لگتے ہیں زندگی میں خوش قسمتی سے - یا الله سے ایسا رابطہ پیدا ہو جاتا ہے جیسا اس کا تھا تو پھر وہ کیفیت اور طرح کی ہوتی ہے -

از اشفاق احمد زاویہ ١ آر وائے خان صفحہ ١٠٥

Tuesday, September 3, 2013

نہ من بیھودہ گرد کوچہ و بازار می گردم ( کلام مولانا جلال الدین رومی) With English Translation


کلام مولانا جلال الدین رومی
English translation: Andleeb Rizvi

نہ من بیھودہ گرد کوچہ و بازار می گردم

مذاق عاشقی دارم بہ دیدار می گردم



My roaming on streets and bazaars in not pointless
I seek thee, beloved



خدایا رحم کن بر من پریشاں وار می گردم 
خطا کارم گناہ گارم بہ حال زار می گردم



Have mercy on me, for i am anxious
i have sinned, wandering, troubled



شراب شوق می نوشم بہ گرد بار می گردم
سخن مستانہ می گویم ولے ھشیار می گردم



intoxicated by desire, i seek thee and roam
Not drunk but alert as i search



گہے خندم، گہے گریم، گہے اُفتم، گہے خیزم
میسحا در دلم پیدا و من بیمار می گردم



Every now and then laughing, crying,falling, rising
Roving sick as the messiah knocks at my heart's door



بیا جانا عنایت کن تو مولاناء رومی را
غلام شمس تبریزم قلندروار می گردم



Beloved! Come, aid your Maulana Rumi۔
Wanderer, slave of Qalandar Shams Tabraizi۔


Monday, September 2, 2013

تم اک گورکھ دھندہ ہو تم اک گورکھ دھندہ ہو


تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا
غریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکن
کسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچا
ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے
حیراں ہے مگر عقل میں کیسا ہے تو کیا ہے
تجھے دیر و حرم میں میں نے ڈھونڈا تو نہیں ملتا
مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دل میں دیکھا ہے
جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں
پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا
تم اک گورکھ دھندہ ہو

کوئی صف میں تمہاری کھو گیا ہے
اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے
نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے
مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
تم اک گورکھ دھندہ ہو

حیران ہوں
میں حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
فلسفی کو بحث میں اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم
جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم
حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم
یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں
ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم
بس تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے
حیراں ہے مگر عقل میں کیسا ہے تو کیا ہے
تجھے دیر و حرم میں میں نے ڈھونڈا تو نہیں ملتا

مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دل میں دیکھا ہے
جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں
پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا

تم اک گورکھ دھندہ ہو

کوئی صف میں تمہاری کھو گیا ہے
اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے
نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے
مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
تم اک گورکھ دھندہ ہو

حیران ہوں
میں حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
فلسفی کو بحث میں اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم
جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم
حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم
یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں
ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم
بس تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

کوئی صف میں تمہاری کھو گیا ہے
اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے
نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے
مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے

تم اک گورکھ دھندہ ہو

حیران ہوں
میں حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
فلسفی کو بحث میں اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم
جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم
حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم
یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں
ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم
بس تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

حیران ہوں
میں حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
فلسفی کو بحث میں اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم
جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم
حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم
یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں
ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم
بس تم اک گورکھ دھندہ ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو

نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا کبھی وہاں پہنچا


ناز خیالوی


الله والوں کی حقیقت

میرے ایک دوست تھے سلطان راہی ان کا نام تھا - آپ نے ان کی فلمیں دیکھی ہونگیں - ایک روز مجھے ان کا پیغام ملا کہ آپ آئیں ایک چھوٹی سی م...